رمضان کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک کا مہینہ کیسے
گزاریں؟

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔یہ
مہینہ بڑی برکتوں اور بڑی فضیلتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اللہ رب العزت کی طرف
سے انسانوں کو خصوصی سہولیات فراہم ہوتی ہیں اور اس کے خصوصی انعامات کا نزول دنیائے
انسانیت پر ہوتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ کی رحمت کے دروازے مسلمانوں کیلئےکھول
دیئے جاتے ہیں۔ آسمانوں کے دروازے بھی کھول دیئے جاتے ہیں اور ان سےمسلمانوں اور
مومنوں پر انوار و برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جہنم کے دروازوں کو بند
کردیا جاتا ہے اور سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں عبادات کا
ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ فرض کا ثواب 70 گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ اورنفل کا
ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار
مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ اس ماہ کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت ہے۔

رمضان کی فضیلت

قرآن مجید میں رمضان کے مہینے
کی کئی فضیلت بیان ہوئی ہیں اور احادیث میں تو رمضان المبارک کے فضائل اتنی کثرت
سےذکرکیے گئےہیں کہ ان کوبیان کرنے کے لیے مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔ رمضان المبارک
کے فضائل سے متعلق ایک روایت آتی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مسجد میں حاضرین سے فرمایا:کہ تم لوگ ممبر کے قریب آ جاؤ۔ جب لوگ قریب آ گئے تو
آپ ممبر پر چڑھے،  جب پہلی سیڑھی پر قدم
رکھا تو فرمایا ’آمین‘۔ اس کے بعد دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا’آمین‘۔ اس
کے بعد تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو بھی فرمایا ’آمین‘۔ (صحابہ نے فرمایا)جب آپ
ممبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آج ہم نے آپ سے ایک ایسی بات
سنی جو کبھی نہیں سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے سامنے جبرئیل
(علیہ السلام) آ گئے اور انھوں نے کہا کہ برباد ہو جائے وہ شخص جس کو رمضان
المبارک کا مہینہ ملا، لیکن وہ اپنی بخشش نہ کروا سکا، تو میں نے کہا آمین۔

یہ ایک طویل روایت ہے جس میں
تمام آمین کہنے کی وجہ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔

رمضان کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک کا مبارک مہینہ
گزارنے کیلئے چند ایسی عادات ہیں جن کو اپنا کر ہم اس مہینے میں اپنی بخشش کا
سامان پیدا کرسکتے ہیں۔

تلاوت قرآن مجید:

رمضان المبارک کو تلاوت قرآن
سے خاص مناسبت ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید رمضان المبارک میں ہی نازل کیا گیا۔ رمضان
المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام پورا قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
سلم کو سنایا کرتے تھے اور ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتے
تھے۔ اس لیے رمضان کو قرآن سے بڑی مناسبت ہے۔ اس لیے رمضان المبارک میں کم از کم
تین پارہ روزانہ تلاوت کا معمول بنائیں۔ رمضان میں تلاوت کے لیے کوئی خاص وقت بھی
متعین نہ کریں بلکہ ہر نماز کے بعد حسب استطاعت تلاوت کر لیں۔ اس طرح قرآن مجید
سے شغف اور تعلق میں اضافہ ہوگا اور اس کے ذریعے اجر کا جو ذخیرہ جمع ہوگا اس کا
اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ اس کو پورے طور پر اللہ رب العالمین کے لیے چھوڑ دیں۔

تلاوت کے وقت ایک بات کا ہمیشہ
خیال رہے کہ قرآن کا مقصد صرف الفاظ کی تلاوت نہیں ہے بلکہ قرآن مجید کا مفہوم
سمجھنا اور اس کی ہدایات کو اپنی زندگی میں شامل کرنا  ہے۔ قرآن اصل  تو عمل کے لیے نازل ہوا تھا، اس لیے جب تک قرآن
کو سمجھا نہ جائے، اس وقت تک گویا نزول قرآن کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ جو لوگ عربی
جانتے ہیں وہ تو سمجھ لیں گے لیکن جو عربی نہیں جانتے وہ پہلی فرصت میں یہ نیت کریں
کہ وہ عربی سیکھیں گے تاکہ قرآن مجید کو سمجھ سکیں۔ جب تک عربی نہیں سیکھ پاتے اس
وقت تک قرآن کا ترجمہ پڑھ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی کے ساتھ کسی معتبر
عالم کی نگرانی بھی رکھیں تاکہ فہم قرآن میں کوئی غلطی نہ ہو۔

نوافل کا اہتمام:

رمضان المبارک میں نوافل کا
ثواب فرض نماز کے برابر ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایک نفل نماز پڑھنے کا مطلب ہے ایک فرض
کو ادا کرنا۔ اس لیے رمضان المبارک میں کثرت سے نوافل کا اہتمام کریں۔ تراویح تو
عام طور پر لوگ پڑھتے ہیں۔ ان کے علاوہ تہجد کے وقت دو یا چار نفل ضرور پڑھ لیں
اور مغرب کی سنتوں کے بعد دو یا چھ نوافل کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی
اشراق کی نماز کو کم از کم رمضان المبارک میں اپنا معمول بنا لیں۔ ان کے علاوہ بھی
حسب  سہولت نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔

شکران نعمت:

رمضان المبارک میں دنیائے
انسانیت کی سب سے بڑی نعمت انسانوں کو ملی یعنی قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اللہ کی
اس عظیم نعمت اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ نعمت نہ
ہوتی تو نہ جانے ہم کن اندھیریوں میں گم ہوتے۔ اس لیے یہ اللہ تعالی کی سب سے بڑی
نعمت ہے۔ اس پر اللہ تبارک وتعالی کا زیادہ سے زیادہ شکریہ ادا کریں۔ اس کے علاوہ
بھی اس کی بے شمار نعمتیں ہیں جو ہم پر ہمہ وقت سایہ فگن ہیں۔ خود اللہ کا فرمان
ہے کہ اس کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو نہیں گن سکتے۔ اس لیے اس کی تمام نعمتوں پر
شکر ادا کریں۔ شکر عبادت بھی ہے اور شکر کی وجہ سے نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
شکر کا ایک مطلب یہ ہے کہ زبان سے شکر ادا کریں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ اس نے جس کام
کا حکم دیا ہے اس کو بجا لائیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے اعضا و جوارح سے کوئی ایسا
کام نہ کریں جو اس کی نافرمانی کا موجب ہو۔

صدقات:

تیسرا ضروری کام یہ ہے کہ اس
ماہ مبارک میں جتنا ہو سکے دوسروں کی مدد کریں۔ ویسے تو سب کی مدد کریں لیکن خاص
طور پر ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں۔ رمضان المبارک کا ایک نام
شہر المواساۃ یعنی ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ بھی ہے۔ اس ماہ مبارک میں دوسروں کی
خبر گیری کرنا اس ماہ کے مقاصد میں سے ہے۔ غریبوں کی خصوصی مدد کے لیے اس مہینہ میں
صدقہ الفطر واجب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جتنا ہو سکے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔
بہت سے لوگ اسی ماہ مبارک میں اپنی زکوۃ بھی نکالتے ہیں یہ بھی اچھا عمل ہے۔مصارف زکوۃ کے بارے میں جان کر انہیں اپنی زکوۃ دینا احسن عمل ہے۔

خدمت:

اس مہینہ میں ایک ضروری کام دوسروں
کی خدمت ہے۔ جہاں تک ہو سکے اپنے معاشرے اور اپنے گرد وپیش کے لوگوں کی خدمت اور
خبر گیری کریں۔ خدمت کا آغاز اپنے گھر والوں سے کریں۔ جن کے پاس ان کے والدین کی
دولت موجود ہو وہ سب سے زیادہ ماں باپ کی خدمت کریں۔ ان کے علاوہ میاں بیوی ایک دوسرے
کی خدمت کریں۔ اپنے بچوں کی خبر گیری کریں۔ ضعیف رشتہ داروں اور محلے کے بزرگوں کی
خدمت کرکے رب کی خوشنودی حاصل کریں۔ خدمت خلق بھی ایک عظیم عبادت ہے۔

نفس کی تربیت:

 رمضان المبارک میں سب سے ضروری کام نفس کی تربیت
ہے۔ یہ روزہ کے مقاصد میں شامل ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ اگر کوئی
روزے سے ہو تو اس کو فحش گوئی نہیں کرنی چاہیے۔ نہ شور و غوغا کرنا چاہیے۔

حدیث میں آتا ہے کہ  اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو وہ
کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ یعنی میں جھگڑا نہیں کروں گا (
بخاری

 ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے
ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا (
ابن ماجہ

 اس لیے اس پر خصوصی توجہ رہنی چاہیے کہ روزے کے
ذریعے ہمارے نفس کی اصلاح ہو، باطن کا تزکیہ ہو، ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ صبر و
برداشت کا مادہ پیدا ہو، ہم معاف کرنا سیکھ جائیں، ہمارے اندر جتنے یہ خصائص پیدا
ہوں گے، تقویٰ کا معیار اسی حساب سے بلند ہوتا جائے گا۔ اور روزے کے مقاصد بھی
پورے ہوں گے۔

نفسانی خواہشات سے اجتناب:

ہم روزے تو ماشا اللہ بڑے ذوق
و شوق سے رکھ رہے ہوتےہیں، لیکن روزے کے معنی کیاہیں؟ روزے کے معنی یہ ہیں کہ
کھانے اور پینےسے اجتناب کرنا، اور نفسانی خواہشات کی تکمیل سے اجتناب کرنا، روزے
میں ان تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔

 اب یہ دیکھیں کہ یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی
نفسہ حلال ہیں، کھانا حلال، پینا حلال اور جائز طریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات
کی تکمیل کرنا حلال، اب روزے کے دوران آپ ان حلال چیزوں سے تو پرہیز کر رہے ہیں۔
نہ کھا رہے ہیں اور نہ پی رہے ہیں۔ لیکن جو چیز پہلے سے حرام تھیں، مثلاً جھوٹ
بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا، جو ہر حال میں حرام تھیں، روزے میں یہ سب چیز ہو
رہی ہیں۔ اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور بدنیتی
کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت
پاس کرنے کے لئے فلمیں اور ڈرامےدیکھ رہے ہیں، یہ کیا روزہ ہوا؟ کہ حلال چیز تو
چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی۔

اس لیے روزہ دار کو چاہیے کہ حرام
چیزوں ضرور اجتناب کرے کیوں کہ کئی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے بھوکے رہنے کے سوا
کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

اللہ ہمیں عمل کی توفیق
عطافرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے