السلام علیکم کی فضیلت و اہمیت
قرآن و احادیث کی روشنی میں

ویسے تو دنیا میں ہر مہذب قوم
کا یہ روا ج ہے کہ آپس میں ملاقات کے وقت احترام و محبت کا کوئی نہ کوئی جملہ اپنے
مخاطب کو مانوس و مسرور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اسی طرح صبح ، شام اور رات کی
ملاقات کے اوقات کیلئے شب بخیر، صبح بخیر جیسے الفاظ رائج ہیں۔

 زمانہ جاہلیت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کی بعثت سے قبل خود عربوں میں بھی اس طرح کے کلمات کہنے کا رواج تھا ابو داود شریف
میں حدیث ہے کہ سیدنا عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب ہم آپس میں
ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے :
حَیَّاکَ
اللّٰہُ
یعنی اللہ تعالیٰ
تمہیں زندہ رکھے  یا پھر یہ کہتے:
اَنعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَینًا، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔ لیکن جب
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک ہوئی تو اسلام میں السلام علیکم کہنے
کے احکامات جاری ہوئے۔

سلام کی اہمیت و فضیلت

اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے

وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ
فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ
شَيْءٍ حَسِيبًا
(86) النساء

ترجمہ: اور جب تمھیں سلامتی کی
کوئی دعا دی جائے ، تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو ۔
بےشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

اس آیت مبارکہ کی  تفسیر میں حافظ عبد السلام بھٹوی فرماتے ہیں : کہ جب کوئی شخص تمھیں سلام کہے تو اسے اس سے بہتر الفاظ
میں جواب دو۔

سلام کی اہمیت و فضیلت


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی ایک حدیث میں آتاہے:

عَنْ عِمْران بنِ حصين رَضِیَ اللہُ عَنْھُما،
قَالَ:
‏‏‏‏ ” جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النبيِّ صلى الله عليه وسلم ،
فقال:
‏‏‏‏ اَلسَّلام عَليكم ، فَرَدَّ عَليه السَّلام ، ثُم جَلس
، فَقال النَّبي صَلى الله عليه وسلم:
‏‏‏‏ عَشَرَ ، ثُم جَاءَ آخَر ،
فقال:
‏‏‏‏ السلام عليكم ورحمة الله ، فَرَدَّ عليه ، فَجَلَس ، فقال:‏‏‏‏ عِشْرُون
، ثم جَاء آخر ، فقال:
‏‏‏‏ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ، فردَّ عليه ، فجلس ،
فقال:
‏‏‏‏ ثَلاثُون "۔

ترجمہ: جناب عمران بن حصین رضی
اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لایا
اور اس نے ”
السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا،
اس نے ”
السلام علیکم ورحمتہ اﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ
نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”
السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ
نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔

سلام میں پہل کرنے کی فضیلت

امام ابوداود سےروایت ہے:عن ابی امامۃ، قال:‏‏‏‏ قال رسول
الله صلى الله عليه وسلم:
‏‏‏‏ ” إن اولى الناسِ بالله ِمَن بَدَاهُم بالسَّلام۔”

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر
شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے“۔

ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سلام
میں پہل کرنا بہت افضل عمل ہےبے شک وہ شخص جو سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ کے زیادہ
قریب ہے۔

سلام کی اہمیت و فضیلت


جنت میں لے جانے والے اعمال

ایک دوسری حدیث سے بھی سلام کی
اہمیت ثابت ہوتی ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جنت واجب کر دینے والی چیزیں یہ
ہیں

(1) (یتیم و مسکین ، مستحق لوگوں کو) کھانا
کھلانا

(2) سلام کو عام کرنا

(3) اچھی و عمدہ گفتگو کرنا

جنت میں لے جانے والے اعمال


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے