دعائے استخارہ

دعائے استخارہ – ابراہیم شاہ

اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی بھی
کام کو سرانجام دینے سے پہلے استخارہ کا حکم دیاہے۔ نماز استخارہ  یا دعائےاستخارہ دراصل اللہ تبارک وتعالی سے
اپنے لیے جو بہتر ہے اس کو مانگنے کی دعا ہے۔

نمازہ استحارہ کی دعا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کرنے کی تعلیم ایسے ہی دیتے تھے جیسے قرآن کریم
کی کسی سورت کی دیتے تھے۔آپ فرماتے تھے جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرنا
چاہےتو فرض نماز کے علاو ہ دورکعت نماز پڑھے پھر یہ دعاپڑھے۔

دعائے استخارہ – istikhara ki dua


istikhara ki dua



اَللّهُمَّ إِنِّي أَستَخِيرُكَ بِعِلمِكَ
، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيم فَإِنَّكَ
تَقْدِرُ وَلا أقدِرُ ، وَتَعلَمُ وَلَا أَعلَمُ ، وَأَنتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ ، اَللّهمَّ
إِنْ كُنْتَ َتَعلَمُ أنَّ هَذَا الأَمْرَ –
یہاں اپنی حاجت کو دل میں سوچے – خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمرِي فَاقْدُرْهُ
لِي وَيَسِّرْهُ لِي ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِن كُنتَ تَعلمَ أَنَّ هَذا الأَمْرَ
یہاں اپنی حاجت کو دل میں سوچے – شَرٌّ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ
عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاقْدُرْ لِيَ الخَيرَ حَيثُ كَانَ ، ثُمَّ اَرْضِنِي
بِه۔

 

اردو ترجمہ: اے اللہ بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی
کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتاہوں اور میں تجھ سے تیرے فضل عظیم
کا سوال کرتا ہوں کیوں کہ تو قدرت رکھتاہے اور میں قدرت نہیں رکھتا تو جانتاہے اور
میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتاہے۔ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ
کام(کام کا نام بھی لے)  میرے لیے میرے دین
میرے معاش اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے
اور اسے میرے لیے آسان کردے پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے۔ اور اگر تو جانتا ہے
کہ بے شک یہ کام (کام کا نام بھی لے) میرے لیے میرے دین میرے معاش اور میرے انجام کار
کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی
کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو پھر مجھے اس پر راضی کردے۔

نماز استخارہ کا طریقہ

نماز استخارہ اداکرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دن یا رات میں
کسی بھی وقت دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں، سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ
کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے۔ نیت یہ ہو کہ
میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالی
اس کا فیصلہ فرمادیں ۔اگر ایک بار نمازاستخارہ ادا کرنے پر دل مطمئن نہ ہو تو یہ
عمل سات دن تک دہرائیں ان شاء اللہ رہنمائی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے