Top ads

ورزش کیے بغیر وزن کم کرنے کا طریقہ


ورزش کے بغیر وزن کم کرنے کا طریقہ

ورزش کیے بغیر وزن کم کرنے کا طریقہ

آج کے اس دور میں ہر انسان ایک مشین کی طرح سے کام کر رہاہےوہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اتنا مصروف ہو چکاہے کہ اپنی صحت کی بہتری کے لیے اس کے پاس وقت نہیں۔ بیٹھے بیٹھے کام کرنے کی عادت نے سستی اور موٹاپے جیسے امراض سے دوچار کردیا ہے۔ ان امراض سے دوچار ہونے کے بعد وہ اس کے علاج کی تلاش میں اپنی تمام تر طاقت صرف کرنا شروع کردیتاہے۔

 ماہرین صحت وزن کم کرنے کے بے شمار طریقے بتاتے ہین جن میں مختلف قسم کی ورزشیں اور فاقہ کشی کی تراکیب شامل ہوتی ہے۔ وزن کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ  ورزش کرنا  ہے لیکن کچھ ایسی تدبیریں بھی ہیں جن کے لیے پسینہ بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔وزن کم کرنے کیلئے جتنے بھی طریقے بتائے جاتے ہیں ان میں ورزش کا بہت اہم کردار ہوتا ہے لیکن اگر آپ ورزش کو ناپسند کرتے ہیں یا آپ کے پاس وقت نہیں تو آپ کیا کریں گے؟ ذیل میں ہم کچھ ایسے طریقوں کا ذکر کریں گے جن پر عمل کر کے وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


مدھم روشنی او رکم شور والی جگہوں پہ کھانا کھائیں


مدھم روشنی اور کم شور میں کھانا کھانے کی عادت بنائیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ روشنیوں اور شور والی جگہوں میں کھانا کھاتے ہیں وہ ایسے لوگوں کی نسبت زیادہ خوراک استعمال کرتے ہیں جو پرسکون اور مدھم روشنی میں کھانا کھاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روشنی مدھم رکھنے سے کھانے کی رفتار کم رہتی ہے اور کھانا ٹھنڈا ہونے سے ہم جلدی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے کھانے کی نسبت گرم کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے جو موٹاپے کا سبب ہے۔

چھوٹے برتن کا استعمال


چھوٹے برتن کا استعمال عام طور پر جو پلیٹس کھانے کیلیے استعمال کی جاتی ہیں ان کا سائز11 یا 12 انچ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پلیٹ کا سائز کم کر کے 10 یا نو انچ کر دیا جائے تو ہم اپنی خوراک میں 23 فیصد کمی لا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم اپنی چمچ کا سائز بھی کم کر لیں تو خوراک میں 14 فیصد مزید کمی لائی جاسکتی۔دماغ کو سمجھائیں اس ترکیب کا استعمال ہر کسی کے لیے ممکن نہیں اور نہ یہ ہر کسی کے لیے مفید ہے۔

 ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کھانے سے پہلے دماغ کو پیغام دیں کہ مجھے بھوک نہیں لیکن میں پھر بھی کھانا کھاؤں گا اور ایسا کرنے سے ایک میں 1.6 پاؤنڈ وزن کم کیا جا سکتا ہے۔


اپنا وزن کریں 

ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ عمر، قد اور وزن کا حساب لگائے بغیر ہی خود کو صحت مند سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے وزن کے متعلق قریبی دوستوں سے مشورہ کرنا چاہیے اور ان کے کہنے پر ایک بار وزن ضرور کریں۔وزن کرنے سے موٹا پاکم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی لیکن اس کے بعد احتیاطی تدابیر اپنا کر وزن کو بڑھنے سے مزید روکا جاسکتا ہے۔

کھانے کا حساب رکھیں عمر، قد اور وزن میں توازن رکھنے کیلئے ضروری ہے آپ اپنی خوراک کا حساب رکھیں جس سے آپ کلوریز کے متعلق صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بلاشبہ ایسا کرنا بہت مشکل ہے لیکن اپنے کھانے کا حساب رکھنے سے خوراک میں توازن قائم کرنا آسان رہتا ہے۔

ماحول کا عمل دخل


جس ماحول میں آپ زندگی گزار رہے ہیں اس کا آپ کے وزن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جن جگہوں پر تازہ اور صاف ستھری غذا مہیا نہیں ہوتی یا زیادہ تیل والے کھانے کھانے کا رواج ہوتا ہے وہاں اکثر لوگوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ ہمیشہ تیل والی غذاؤں سے بچنے کی کوشش کریں۔

نیند کی کمی


نیند پوری کریں نیند میں کمی سے دماغ ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو بھوک میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین صحت کےمطابق وزن کم کرنے کے لیے نیند پوری کرنا جم جانے سے زیادہ ضروری ہے۔ نیند کے دورانیے کو ورزش کے ساتھ متصادم نہیں ہونا چاہیے۔طبی تحقیق کے مطابق ہر انسان کو روزانہ 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے تا کہ بھوک اور پیاس کے احساس کو کنٹرول کرنے کے ذمے دار ہارمونز کا نظام درست رہے۔


صحت مند ناشتہ کریں


بھرپور ناشتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ پیٹ بھر کر اور اپنی مرضی کی خوراک استعمال کریں بلکہ پروٹین سے بھرپور ناشتہ کرنا چاہیے جو سارا دن بھوک کنٹرول کرنے میں مدد کرے۔ ناشتے میں انڈے ، دہی یا مونگ پھلی کے مکھن کا استعمال کریں۔ کھانے میں تین گھنٹے سے زیادہ وقفہ نہ  دیں اور ہمیشہ تھوڑا تھوڑا کھائیں۔

ان سب عادات کو اپنا کر بھی آپ اپنے وزن میں خاطرخواہ کمی لاسکتے ہیں۔اپنی عادات کو بدلنا تھوڑا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن بالکل نہیں ہے۔ اگر آپ کو واقعی اپنی صحت کی فکر ہے تو آپ اپنی عادت کو دی گئی ہدایات کے مطابق ضرور بدلیں گے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

close