Top ads

رمضان میں بھوک، پیاس اور کمزوری سے کیسے نمٹا جائے؟

رمضان میں بھوک, پیاس اور کمزوری سے کیسے نمٹا جائے؟

رمضان میں بھوک، پیاس  اور کمزوری سے کیسے نمٹا جائے؟


رمضان میں بھوک اور کمزوری سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے لئے ایسی غذا کا انتخاب کریں جو آپ کی طبیعت پر اچھا اثر ڈالے ۔بجائے ایسی غذا کھانے کے جو آپ کی صحت اور  عبادات پر اثر انداز ہو اور اس بابرکت مہینہ کا پوری طرح فائدہ نہ اٹھانے دیں۔ چونکہ روزےدار صبح سے شام تک بھوکا رہتا ہے تو ایسے میں بدن میں نمکیات اور توانائی کی کمی ہوسکتی ہے۔ ان نمکیا ت اور توانائی کی کمی کو دور کرنے کیلیے طبّی ماہرین کچھ تجاویز دیتے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے آپ روزے کے دوران ہونے والی کمزوری سے نجات حاصل کرسکتےہیں۔

روزہ رکھتے ہوئے صحت اور توانائی کیسے برقرار رکھی جائے؟

کثرت سے پانی پئیں


افطار میں ہم لوگ کئی اقسام کے مشروبات رکھتے ہیں ۔اور  تھوڑا سا پانی پی کر دوسرے مشروبات زیادہ پیتے ہیں ان میں ایسے مشروب بھی شامل ہوتے ہیں جن میں کیفین پائی جاتی ہے۔افطار سے سحری کے دوران پانی کے بجائے دوسرے مشروب پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے روزے کے دوران  کمزوری محسوس ہوتی ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ افطار سے سحر کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے تاکہ جسم کے خلیات کی ضرورت پوری ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ ٹوکسن خارج ہو ۔


صحت مند کھانے اور پانی پینے کی عادت کے ساتھ ساتھ خود کو اللہ کی عبادت میں مصروف رکھیں تاکہ آپ کی توجہ بھوک سے ہٹ جائے ۔رمضان المبارک نیکیوں کا مہینہ ہے اس میں کثرت سے نوافل پڑھیں۔ نماز،قرآن پاک کی تلاوت اور دینی کتابوں کے مطالعہ کریں تاکہ آپ کو روحانی تقویت ملے اور آپ اپنی بھوک کو بھول جائیں ۔

ہلکی پھلکی ورزش کا معمول بنائیں


اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ ورزش توانائی کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے کمزوری محسوس ہوتی ہے جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ورزش جسم کو نقصان پہنچانے والے ٹوکسن کو خارج کرکے ایسے ہارمونز بناتی ہے جو توانائی میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس طرح ورزش سستی کا خاتمہ کرتی ہے۔لہٰذا روزے کے دوران کمزوری سے بچنے اور توانائی کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ سحری یا افطار کے بعد ہلکی پھلکی ورزش ضرورکی جائے۔
رمضان میں بھوک، پیاس  اور کمزوری سے کیسے نمٹا جائے؟


صحت بخش  کھانا کھائیں


رمضان میں بھوک اور پیٹ کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ سحر اور افطار میں کھایا جانے والا مضر صحت کھانا ہوتا ہے ۔لوگ افطار اور سحری میں اپنی پسند اور مرضی کا کھانا کھاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ روزے کی حالت میں یہ کھانا ان پر کیا اثر ڈالے گا ۔اس طرح یا تو سحری کے بعد سے ہی انھیں بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے اور اگر وہ زیادہ مقدار میں کھاتے ہیں تو ان کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے  انھیں شدت سے  پیاس لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ان مسائل سے بچنے کے لئے بہتر ہوگا کہ آپ  ایسی غذا کا استعمال کریں جس میں ہر طرح کی توانائی فراہم کرانے والے اجزاء موجود ہوں ۔سحری میں کاربوہائڈریٹ والی غذا کھانی چاہئے تاکہ دیر تک توانائی بحال رہے۔ جبکہ افطار میں پروٹین والی غذا کھانی چاہئے کیونکہ پروٹین مسلز کو طاقتور بناتے ہیں ۔اپنی غذا میں صحت بخش چیزیں مثلا سبزیاں اور پھل وغیرہ شامل کریں تاکہ دن میں بھوک سے بچے رہیں ۔ لوگوں کو سستی اور پیٹ کے ابھارے کی شکایت ہونے کی اہم وجہ اصل میں افطار میں تلی ہوئی اشیا کا استعمال ہی ہے کیونکہ معدہ سارا دن خالی رہنے کے بعد حساس ہوچکا ہوتا ہے۔ایسے میں تلی ہوئی اشیاء کا استعمال آپ کی صحت کےلیے نقصان دہ ہوسکتاہےلہذا ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم جو کھائیں وہ غذائیت سے بھرپور ہو۔
رمضان میں بھوک، پیاس  اور کمزوری سے کیسے نمٹا جائے؟


اچھی عادات اپنانے کی کوشش کریں


رمضان محض بھوکے اور پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ صبر ، برداشت  اور اپنے دیگر اعضاء کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔ اللہ تعالی کو ایسا روزہ ہرگز قبول نہیں جس کے دوران آپ جھوٹ بولیں اپنی بری عادات کو نہ چھوڑیں اور صرف بھوکے پیاسے رہ کر افطار کا انتظار کریں۔

نوٹ: اگر آپ بیمار ہیں، حاملہ ہیں یا کسی اور صحت کے مسائل میں مبتلا ہیں تو آپ روزہ رکھنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

close