کیاآپ زیادہ چائے پینے کے نقصانات جانتے ہیں؟

زیادہ چائے پینے کے نقصانات

زیادہ چائے پینے کے نقصانات


چائے ایک عام استعمال کی چیز ہے ۔یہ طبی خواص کے لحاظ سے گرم اور خشک مزاج کی حامل ہے ۔یہ پیاس کو بجھاتی اور پیشاب آور ہے۔ تاہم اس کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے اس مشروب کو اعتدال میں رہ کر ہی پینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔اس میں ایک زہریلا اور نشیلا مادہ کیفین پایا جاتا ہے،جو جدید طبی وسائنسی تحقیقات کے مطابق بلڈ پریشر میں نہ صرف اضافہ کرتا ہے بلکہ بلڈ پریشر کے مرض کا باعث بھی بنتا ہے۔چائے کا بکثرت استعمال کئی ایک امراض کا سبب بنتا ہے ۔


1.       یہ زہریلا مادہ کیلشیم کو جسم کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔

2.       RNAاورDNAکی پیدائش میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

3.       ذیابیطس ،کینسر اور گردوں کے امراض کا سبب بھی چائے بنتی ہے۔

4.       چائے کثرت سے پینے والے گنٹھیا اور جوڑوں کے درد جیسے موذی امراض میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

5.       بہت زیادہ چائے پینا نیند کی کمی، ذہنی بے چینی اور دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھانے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

6.       چائے میں موجود زہریلا مادہ کیفین پیشاب زیادہ آنے کا باعث بنتاہے خاص طورپر اگر بہت زیادہ پی جائے تو، اسی طرح یہ نیند اڑانے یا دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔


7.       چائے نوش آہستہ آہستہ دائمی قبض میں مبتلا ہو کر دوسرے کئی امراض معدہ،امراض جگر اور گردوں کی بیماریوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں چائے میں موجود ایک کیمیکل Theophylline غذا کے ہضم ہونے کے عمل کے دوران ڈی ہائیڈریشن کا باعث بن سکتا ہے جو کہ قبض کا شکار بنا دیتا ہے۔

8.       چائے میں موجود کیفین خون کی شریانوں کے نظام کے لیے کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوتی اور اسے بہت زیادہ مقدار میں جسم کا حصہ بنانا دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

چائے کا بہت زیادہ استعمال کرنے والے افراد کو چاہیے کہ روزانہ چائے پینے کے معمول میں تبدیلی لائیں اور چائے کی مقدار میں بتدریج کمی کرتے جائیں۔ 24 گھنٹوں میں ایک آدھا چائے کا کپ پینے میں کوئی قباحت نہیں ہے،کیونکہ انسانی جسم کو کیفین کی مخصوص مقدار کی لازمی ضرورت ہوتی ہے جو کہ چائے کے ایک کپ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی