خود سے باتیں کرنا ایک جان لیوا مرض یا پھر ذہانت کی نشانی ۔ ۔

خود سے باتیں کرنا ایک جان
لیوا مرض یا پھر ذہانت کی نشانی ۔ ۔

خود کلامی یعنی اپنے آپ سے باتیں کرنا عموما اس عادت کو معاشرے میں
اچھانہیں سمجھاجاتا اور اس بیماری کے شکارلوگ دوسروں کے سامنے شرمندگی کا بھی سامنا
کرتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عادت کسی شخص کے ذہین ہونے کی طرف اشارہ کرتی
ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق خود کلامی ایک فائدہ مند عادت اور ذہانت کی نشانی
ہےماہرین کے مطابق یہ عادت اپنے کاموں کو یاد رکھنے اور اپنے مقاصدکے حصول کیلئے
بھی معاون ثابت ہوتی ہے یہ عادت آپ کے دماغ کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
ایریزونا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق خود کلامی کرنا ڈپریشن کی نشانی
بھی ہوسکتی ہے۔
پروفیسر مولے کے مطابق ہر شخص اپنے آپ سے باتیں کرتاہے یہ کوئی بیماری نہیں
ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ سے باتیں نہیں کرتا تو اسے ضرورکسی سائیکاٹرسٹ سے ملنا
چاہيے کیوں کہ خود سے باتیں کرنا انسان ہونے کی نشانی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عادت ہمیں 
جانوروں سے ممتاز کرتی ہے  یہ دوہری
شخصیت کی نشانی بالکل نہیں ہے بلکہ یہ عادت ہمارے اندر کے غبارکو کم کرنے میں مدد
دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے