Top ads

کیا مچھلی کھانے کے بعد دودھ پیا جاسکتا ہے؟


کیا مچھلی کھانے کے بعد دودھ پیا جاسکتا ہے؟
طب مشرق کے مطابق کسی بھی چیز کے تین ممکنہ خواص ہوتے ہیں:سرد،گرم اور معتدل۔مچھلی کی تاثیر گرم اور دودھ کی تاثیر سرد ہے۔یہی وجہ ہے کی دو مختلف تاثیر رکھنے والی چیزیں دودھ اور مچھلی کو ایک ساتھ کھانے سے طب منع کرتی ہےکیوں کہ انکو ایک ساتھ کھانے سےجلد پر سفید اور بدنما دھبوں کے علاوہ مختلف قسم کی جلدی بیماریاں اورالرجی وغیرہ جنم لے سکتی ہے۔
اور اگر سائنسی نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو اب تک کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ان کو ایک ساتھ یا ایک دوسرے کے بعد کھانے سے جسم پر برے اثرات واقع ہوسکتے ہیں۔اور ہم لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس وقت کئی ایک ایسی غذائیں موجود ہیں جن  میں بیک وقت دودھ ،مچھلی اور دہی شامل ہوتے ہیں جو کہ صحت کیلئے مفید ہیں لہذا مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے سے صحت پر ہونے والے برے اثرات کا مفروضہ غلط ثابت ہوتاہے۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ خاص اقسام کی مچھلیاں کھانے کے بعد دودھ پینے سے مضر اثرات ظاہر ہوتے ہیں لیکن اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں کیوں کہ  تحقیق کے بعد ہی اس بات کے سچ ہونے کہ پتہ چل سکتا ہے۔
اگر اسلامی نقطہ ء نظر سے دیکھا جائے تو مچھلی اور دودھ ایک ساتھ کھانے کی ممانعت نہیں ملتی ہے البتہ کچھ اطباء مچھلی کے بعد دودھ یا دودھ کے بعد مچھلی یا ان دونوں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کرتے ہیں ۔علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب'طب نبوی' میں لکھاہےجو شخص معدہ میں دودھ مچھلی کو جمع کرے اس کے نتیجے میں اس کو جذام ,برص یا نقرس (پیروں کے جوڑوں کی بیماری جو اکثر انگوٹھے میں ہوتی ہے) ہو جائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے (کیونکر اس نے ان دو چیزوں کو جمع کیا)۔
دراصل مچھلی اور دودھ دونوں ہی پروٹین سے بھرپور غذائیں ہیں۔ ان دونوں ‏غذاؤں کو ہضم کرنے کیلئے معدہ  کو دوہری محنت کرنا پڑتی ہے جو کہ نظام انہضام کیلئے مشکل ہو جاتی ہے۔لیکن اس بات کی بھی سائنس کی طرف سے کوئی دلیل نہیں ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے آپ کو صحت مند رکھنے والی 3 اہم غذائیں

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی

Before post ads

After post ads