ناشتہ نہ کرنے کے خطرناک نقصانات

ناشتہ نہ کرنے کے خطرناک نقصانات

ناشتہ نہ کرنے کے خطرناک نقصانات

کیا آپ اکثر ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ صحت کے لیے تباہ کن عادت ہے جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ناشتہ چھوڑنے سے پہلے ان چند مسائل کے بارے میں ضرور پڑھ لیں تاکہ آپ ان بیماریوں سے بچ سکیں۔
جسمانی وزن میں اضافہ
اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔

امراض قلب

جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

سانس کی بو

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

آدھے سر کا درد

ناشتہ چھوڑنا جسم میں شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے جس کے باعث گلوکوز کی سطح بھی گر جاتی ہے۔ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے آدھے سر کے درد کی تکلیف بھی لاحق ہوجاتی ہے۔

بالوں کا گرنا

ناشتہ دن کی اہم ترین غذا ہے جو بالوں کی جڑوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کم پروٹین والی غذا کا استعمال بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

دماغی افعال متاثر ہوسکتے ہیں

دماغ گلوکوز پر کام کرتا ہے ، رات بھر بھوکے رہنے کے بعد کاربوہائیڈریٹس کا استعمال ضروری ہوتا ہے جو کہ جسم میں جاکر گلوکوز میں تبدیل ہوتا ہے اور دماغ کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اگر ناشتہ چھوڑ دیا جائے تو دماغی افعال متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔




Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی